عاشورا ہمیں انقلاب کا درس دے رہی ہے کہ ہم اپنے وجود میں اللہی انقلاب لاییں یہ ہم میں ہر ایک کی شخصیت انقلاب اس عالمی انقلاب کا پیش خیمہ ہے کہ جو امام زمانہ کی قیادت میں برپا ہوگا یہ انقلاب کیا ہے؟ اللہ رسول اہلیبیت پر مستحکم ایمان اور ایسا صالح عمل کہ جو صرف انکی مرضی کے مطابق ہو کاش وہ وقت آجایے کہ ہم میں وہ حسینی مہدوی خوشبو پیدا ہو اور ہم گلستان مہدی میںاسطرح اکھٹے ہوں جسطرح کربل کے خونی باغ میں گل زہراء کے پاس بہتر پھول اکھٹے تھے گفتگو جاری ہے
عالم بزرگوار مقدس اردبیلی ان ہستیوں میں سے ہیں کہ جنہیں امام زمان (عج)سے ملاقات کا فیض حاصل ہوا اورا پنی علمی مشکلات کا حل آپ کے وجود مقدس سے لیا علامہ مقدس اردبیلی تقوی اور تقدس میں اس مقام تک پہنچے ہوئے تھے کہ جو بھی پرہیز گاری اور تقدس کی مثال دینا چاہتا ہے آپ کی مثال دیتا ہے۔
ان کے بارے میں مشہور ہے کہ جب بھی انہیں علمی مسائل میں دشواری پیش آتی اور ان کو حل کرنے سے عاجز ہوجاتے تو امیر ا لمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ضریح مقدس کے قریب جاتے اور ان سے پوچھتے تھے اور باب العلم کے پربرکت مقام سے جواب حاصل کرتے تھے ان کے ایک خاص شاگرد جو کہ اپنے استاد محترم کی زندگی کے اسرار سے واقف تھے اور اپنے زمانہ کے بلند پایہ دانشور تھے ایک واقعہ نقل کرتے ہیں کہ : حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے حرم کے صحن میں ایک رات جبکہ نصف رات گزر چکی تھی میں علمی مطالعہ سے تھک جانے کے بعد چہل قدمی کررہا تھا تو اس نورانی فضا میں ایک نورانی پیکر کو حرم شریف کی طرف رواں جاتے دیکھا حالانکہ حرم کے تمام دروازے لاک تھے میں بھی تجسس کی بنا پر اس کے پیچھے چل پڑا ۔
میں نے دیکھا وہ جیسے جیسے حرم کے نزدیک ہورہا ہے تالے اور حرم کے دروازے کھل رہے ہیں اور جس دروازے پر ہاتھ لگاتا ہے کھل جاتا ہے پھر و مکمل وقار اور سنجیدگی کے ساتھ امیر المومنین کی ضریح مبارک کے قریب کھڑا ہوا اور سلام کیا میں نے اس کے سلام کا جواب بھی سنا پھر کسی سے بات شروع کر دی کچھ دیر کے بعد وہ وہاں سے نکلا اور شہر سے باہر چل پڑا اور مسجد کوفہ کی طرف بڑھنا شروع کیا میں بھی متجسس اس کے پیچھے تھا پھر وہ مسجد کے محراب میں داخل ہوا اور بعد میں شہر کی طرف پلٹ گیا جیسے ہی وہ نجف کے دروازے کے پاس پہنچا تو صبح کی روشنی پھوٹ رہی تھی سوئے ہوئے چرند پرند گویا اٹھ کر صبح کی دعا کے لئے تیار ہورہے تھے اچانک مجھے چھینک آئی کہ میں اسے نہ روک سکا وہ میری آواز سن کر میری طرف متوجہ ہوا جیسے ہی اس کا چہرہ میری طرف ہوا تو میں نے دیکھا وہ میرے استاد آیت اللہ مرحوم مقدس اردبیلی تھے ۔
میں نے ان کی خدمت میں سلام اور عرض ادب کرنے کے بعد کہا : میں ساری رات جب آپ حرم مطھر میں داخل ہوئے تھے آپ کے ساتھ ساتھ رہا ہوں مہربانی کر کے فرمائیں ضریح مبارک کے پاس اور مسجد کوفہ کے محراب میں آپ نے کس کس کے ساتھ گفتگو کی تھی ؟ مرحوم مقدس اردبیلی نے سب سے پہلے مجھ سے وعدہ لیا کہ جب تک میں زندہ ہوں یہ راز آپ نے فاش نہیں کرنا پھر فرمایا : بیٹے جب بھی کوئی علمی مسئلہ میرے لئے مشکل ہوجاتا ہے اور اس کے حل سے میں عاجز ہوجاتا ہوں تو حلال مشکلات حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی خدمت میں مشرف ہوتا ہوں اور اپنے مولی سے حل پوچھتا ہوں ۔
گزشتہ رات حضرت امیر علیہ السلام نے میری حضرت صاحب الزمان (عج) کی طرف رہنمائی فرمائی اور فرمایا: میرے فرزند مہدی مسجد کوفہ میں ہیں اور آپ کے امام زمان(عج)ہیں ان کے پاس جائیں اور اپنے مسئلے کا حل ان سے پوچھیں میں نے مولی کے حکم کی تعمیل کی اور مسجد کوفہ میں داخل ہوا اور حضرت محراب میں کھڑے تھے یعنی اپنے مولا حضرت مہدی (عج) سے میں نے اپنی مشکلات کا حل پوچھا۔ امام مہدی پر عقیدہ کا واجب ہونا امام مہدی(عج) کا ظہور غیبی امور میں سے ہے کہ جن کی وحی کے ذریعہ خبر دی گئی ہے قرآن نے اس نکتہ پر تاکید کی ہے کہ پرہیزگاروں کی ایک علامت غیب پر ایمان ہے : ذلک الکتاب لاریب فیہ ھدی المتقین الذین یومنون بالغیب۔۔۔۔۔(بقرہ (۲))آیت ۲،۳ شیخ صدوق ان دو آیات سے تمسک کرتے ہوئے فرماتے ہیں کسی مومن کا ایمان اس وقت تک صحیح نہیں ہوسکتا جب تک ان چیزوں کا علم پیدا نہ کرے کہ جن پر ایمان لانا ضروری ہے اس طرح وہ جس نے امام مہدی(عج) پر ایمان رکھا ہو اسے فائدہ نہ ہوگا جب تک وہ زمانہ غیبت میں آپ کی شان و شخصیت کو نہ جان لے (کمال الدین جلد۱ ص ۹۰)
اسی لئے شیعہ و سنی روایات میں امام مہدی(عج) کے ظہور و خروج کے منکر کو کافر شمار کیا گیا ہے جابر بن عبداللہ پیغمبر اکرم(ص) سے نقل کرتے ہیں: من انکر خروج المہدی فقد کفر بما انزل علی محمد (الحاوی للفتاوی جلد۲ ص ۸۳)جس نے بھی امام مہدی(عج) کے خروج کا انکار کیا اس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہونے والی ہر چیز سے کفر کیا امام صادق علیہ السلام اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : پرہیزگار لوگ امام علی علیہ السلام کے شیعہ ہیں اور غیب (کی ایک چیز) وہی حجت غائب ہے یعنی مہدی منتظر(عج)(کمال الدین جلد ۲ ص ۳۴)
عالم اھل سنت احمد بن محمد بن صدیق کہتے ہیں : امام مہدی(عج) کے قیام پر ایمان واجب ہے اور ان کے ظہور پر عقیدہ پیغمبر اکرم(ص) کی حدیث کی بنا پر حتمی و ضروری ہے (ابراز الوھم المکنون ص ۴۳۳ حدیث ۴۳۶) سفارینی حنبلی کہتے ہیں : امام مہدی (عج)کے قیام پر ایمان واجب ہے جب کہ اھل علم کے ہاں یہ بات ثابت ہے اور اھل سنت و جماعت کے عقائد میں یہ مسئلہ بیان ہوا ہے (الاذاعۃ ص ۱۴۶) شیخ ناصر الدین البانی وھابی کہتے ہیں کہ : بلاشبہ امام مہدی (عج)کے قیام پر عقیدہ پیغمبر اکرم(ص) سے متواتر احادیث کے ساتھ ثابت ہے کہ اس پر ایمان لانا واجب ہے کیونکہ یہ عقیدہ ان امور میں سے ہے کہ جن پر ایمان قرآن میں پرھیزگاروں کی صفات میں شمار کیا گیا ہے (مجلہ التمدن الاسلامی ۲۲ ص ۶۴۳
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اھل سنت کے چہار موثق بزرگ علماء نے اپنی کتاب میں صحیح مسلم سے یہ حدیث نقل کی: المھدی حق وھو من ولد فاطمہ یعنی مہدی حق ہیں اور فاطمہ کی اولاد سے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ صحیح مسلم کے عصر حاضر کے نسخہ جات میں یہ حدیث موجود نہیں ہے وہ چار علماء مندرجہ ذیل ہیں : (۱)ابن حجر میثمی (متوفی ۹۷۴ ھجری) اپنی کتاب الصواعق المحرقہ کے گیارہویں باب اور ص نمبر ۱۶۲ پر نقل کرتے ہیں (۲)متقی ھندی حنفی (متوفی ۹۷۵ ھجری) اپنی کتاب کنز العمال کے چودھویں جلد اور صفحہ نمبر ۲۶۴ پر نقل کرتے ہیں۔ (۳)شیخ محمد علی صبان (متوفی ۱۲۰۶ ھجری)اپنی کتاب اسعاف الراغبین کے صفحہ نمبر ۱۴۵ پر نقل کرتے ہیں انتظار اور عاشورا
محرم کے ایام کی مناسبت سے میں چاھتا تھا اس ٹاپک پر بات کی جاے کہ ہم لوگ جو کہ اپنے امام کا انتظار کر رھے ہیں محرم کے واقعات بلخصوص عا شورا کے عظیم خونی،روحانی اور الھی جزبوں پر مشتمل مناظر سے ہم آج کے پر ابتلاء دور میں کیا سبق حاصل کرتے ہیں؟عاشورا آج ہمیں کیا پیغام دے رہی ہے؟کیا محض ہم عاشورا کے واقعات بیان کر کے اور سید الشہداء (ع) کے درد ناک مصاءب پر رو کر اپنی زمہ داری ادا کردیتے ہیں؟اگر عاشورا ایک درسگاہ ہے تو وہ درس کونسا ہے؟اگر عاسورا ایک انقلاب ہے تو اس انقلاب نے ہمارے وجود میں کونسی تبدیلی پیدا کی ہے؟عاشورا کے روز امام کے عظیم باوفا اصحاب کی الہی قربانیاں ہمیں آج کے امام (عج) سے وفا کے لیے کونسا پیغام دے رہی ہیں؟ آپکے جوابات کا انتظار ہے |
|