تبليغاتX
مهدی فورم
 

شیخ صفار کتاب بصائر الدرجات میں اپنی سند کے ساتھ امام باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا ایک دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ نے اپنے اصحاب کے ایک گروہ کی موجودگی میں فرمایا پروردگار میرے بھائیوں کو مجھ تک پہنچا پھر دو دفعہ اس کلام کی تکرار کی، تو اصحاب نے آپ کی خدمت میں عرض کیا : یارسول اللہ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں؟ آنحضرت نے فرمایا: نہیں کیونکہ تم میرے اصحاب ہو میرے بھائی وہ ہیں کہ جو آخر الزمان میں ہوں گے یہ وہ ہوں گے کہ جو بن دیکھے مجھ پر ایمان لائیں گے یقینا اللہ تعالی انہیں ان کے ناموں کے ساتھ اور ان کے والدین کے ناموں کے ساتھ والدوں کی  پشت سے ماؤں کے رحموں سے نکالے گا اور میری پہچان کروائے گا ان میں سے ہر ایک کا اپنے دین پر باقی رہنا اس سے مشکل ہوگا کہ رات کی تاریکی میں کوئی کانٹوں والے درخت سے اپنے ہاتھ زخمی کرے یاجلتی ہوئی لکڑی کو اپنے ہاتھ میں رکھے یہ لوگ تاریک راتوں میں نورانی چراغوں کی مانند ہوں گے اللہ تعالی انہیں تمام فتنوں سے نجات دے گا اور محفوظ فرمائے گا ۔(بحارالانوار، ج۵۲، ص۱۲۳ ،۱۲۴ ، ح۸)

برقی کتاب محاسن میں اپنی سند کے ساتھ مالک بن اعین سے اور وہ امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو اس بات پر عقیدہ رکھے اور قیام قائم سے پہلے فوت ہوجائے وہ ہر آن اس شخص کی مانند ہے جو راہ خدا میں تلوار کھینچے، (بحارالانوار، ج۵۲،ص۱۲۶،ح۱۷)

صدوق جابر جعفی سے اور وہ امام باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: لوگوں پرایسا زمانہ آئے گا کہ ان کا امام پوشیدہ ہوجائے گا مبارک ہو ان لوگوں کو کہ جو اس زمانہ میں اپنے دین پر ثابت قدم رہیں یقینا کم ترین ثواب جو انہیں دیا جائے گا یہ ہے کہ اللہ تعالی انہیں آواز دے گا تم میرے صاحب راز ہو اور میرے پوشیدہ یعنی امام غائب کی تصدیق کی پس تمہیں یہ بشارت ہو کہ تم میرے حقیقی غلام اور کنیزیں ہو تم سے اپنی اطاعت کو قبول کرتا ہوں اور تمہاری کوتاہیوں کو بخش دیتا ہوں اور تمہارے گناہوں کو معاف کردیتا ہوں تمہاری وجہ سے اپنے بندوں کو بارش سے سیراب کرتا ہوں اور مصیبتوں کو ان سے دور کرتاہوں اگر تم نہ ہوتے تو ان پر عذاب نازل کرتا ،تو جابر جعفی کہتے ہیں کہ میں نے ان کی خدمت میں عرض کیا اے فرزند رسول اس زمانہ میں کون سا عمل سب اعمال سے افضل ہے فرمایا: اپنی زبان کو سنبھالنا اور گھروں میں گوشہ نشین ہونا، (بحارالانوار، ج۵۲، ص۱۴۵،ح۶۶)(مترجم:البتہ یہ گھروں میں گوشہ نشین ہونے والی تعبیر سے مراد ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا نہیں ہے بلکہ غیبت کے دوران فتنوں سے بچنا ہے ورنہ وہ روایات جو منتظرین کے فرایض بتارہی ہیں وہ واضح کر رہی ہیں کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور انفرادی و اجتماعی سطح پر اصلاح کی کوشش کرنا وغیرہ سب پر ضروری ہے تاکہ امام کے ظہور کے اسباب فراہم ہوں)

 Image hosted by TinyPic.com

+ تحریر شده  19 Jul 2007میں ٹایم 10 AM  قلم نگار سیفی  | 

    السلام علیک یا صاحب الزمان           

 دنیا ظھور سے پھلے

حضرت امام صادق علیہ السلام اپنے ایک صحابی سے فرماتے ھیں:

”جب تم دیکھو کہ ظلم و ستم عام ھورھا ھے، قرآن کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ھے، ھوا و ھوس کی بنا پر تفسیر کی جارھی ھے، اھل باطل ، حق پرستوں پر سبقت لے رھے ھیں، ایماندار افراد خاموش بیٹھے ھوئے ھیں، رشتہ داری کے تعلقات ختم ھورھے ھیں، چاپلوسی (خوشامدی) بڑھ رھی ھے، نیکیوں کا راستہ خالی ھورھا ھے  اور برائیوں کے راستہ پر بھیڑ دکھائی دے رھی ھے، حلال ، حرام ھو رھا ھے اور حرام، حلال شمار کیا جا رھا ھے بھت سا مال و دولت خدا کے غیظ و غضب (گناھوں اور برائیوں) میں خرچ کیا جارھا ھے، حکومتی کارندوں میں رشوت کا بازار گرم ھے، نادرست کھیل اس قدر رائج ھوچکے ھوں کہ کوئی بھی ان کی روک تھام کی جرائت نھیںکرتا ، لوگ قرآنی حقائق سننے کے لئے تیار نھیں، لیکن باطل اور فضول چیزیں سننا ان کے لئے آسان ھے، ریاکاری کے لئے خانہ خدا کا حج کیا جا رھا ھے، لوگ سنگدل ھو رھے ھیں،(محبت کا جنازہ نکل رھا ھے) اگر کوئی امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کرتا ھے تو اس کو نصیحت کی جاتی ھے کہ یہ تمھاری ذمہ داری نھیں ھے، ھر سال ایک نیا فتنہ اور نئی بدعت پیدا ھورھی ھے، (جب تم یہ دیکھ لو کہ حالات اس طرح کے ھورھے ھیں تو) اپنے کو محفوظ رکھنا اور اس خطرناک ماحول سے نجات کے لئے خدا کی پناہ طلب کرنا (کہ ظھور کا زمانہ نزدیک ھے)کافی، ج۷، ص ۲۸۔

+ تحریر شده  19 Jul 2007میں ٹایم 10 AM  قلم نگار سیفی  |