|
شیخ صفار کتاب بصائر الدرجات میں اپنی سند کے ساتھ امام باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا ایک دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ نے اپنے اصحاب کے ایک گروہ کی موجودگی میں فرمایا پروردگار میرے بھائیوں کو مجھ تک پہنچا پھر دو دفعہ اس کلام کی تکرار کی، تو اصحاب نے آپ کی خدمت میں عرض کیا : یارسول اللہ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں؟ آنحضرت نے فرمایا: نہیں کیونکہ تم میرے اصحاب ہو میرے بھائی وہ ہیں کہ جو آخر الزمان میں ہوں گے یہ وہ ہوں گے کہ جو بن دیکھے مجھ پر ایمان لائیں گے یقینا اللہ تعالی انہیں ان کے ناموں کے ساتھ اور ان کے والدین کے ناموں کے ساتھ والدوں کی پشت سے ماؤں کے رحموں سے نکالے گا اور میری پہچان کروائے گا ان میں سے ہر ایک کا اپنے دین پر باقی رہنا اس سے مشکل ہوگا کہ رات کی تاریکی میں کوئی کانٹوں والے درخت سے اپنے ہاتھ زخمی کرے یاجلتی ہوئی لکڑی کو اپنے ہاتھ میں رکھے یہ لوگ تاریک راتوں میں نورانی چراغوں کی مانند ہوں گے اللہ تعالی انہیں تمام فتنوں سے نجات دے گا اور محفوظ فرمائے گا ۔(بحارالانوار، ج۵۲، ص۱۲۳ ،۱۲۴ ، ح۸) برقی کتاب محاسن میں اپنی سند کے ساتھ مالک بن اعین سے اور وہ امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو اس بات پر عقیدہ رکھے اور قیام قائم سے پہلے فوت ہوجائے وہ ہر آن اس شخص کی مانند ہے جو راہ خدا میں تلوار کھینچے، (بحارالانوار، ج۵۲،ص۱۲۶،ح۱۷)
|
|