تبليغاتX
مهدی فورم
        

متعدد روایات میں بقیۃ اللہ کا کامل ترین اور مکمل مصداق حضرت مہدی(عج) کو بیان کیا گیا ہے اور یہ لفظ آپ حضرت کے لئے تاویل ہوا ہے صدوق ایک روایت میں امام باقر علیہ السلام سے نقل فرماتے ہیں القائم منا منصور بالرعب موید بالنصر تطوی لہ الارض و یظھر لہ الکنوز۔ ۔ ۔ ۔ (کمال الدین تمام النعمۃ ج۱ ب۲۳، ح۱۶ی)

ہمارے قائم کی مدد رعب اوردہلانے سے کی جائے گی (دشمنوں کے دل میں اس کا خوف اور ڈر بٹھا دیا گیا ہے) اور فتح کے ساتھ اس کی حمایت کی گئی ہے اس کے لئے زمین پاٹ دی جائے گی خزانے اس کے لئے آشکار ہوجائیں گے اس کی حکومت دنیا میں مشرق ومغرب تک پھیل جائے گی اور خداوند اس کے ذریعہ اس کے دین کو تمام ادیان پر غالب فرمائے اگرچہ مشرکین کو یہ بات پسند نہ آئے اور زمین میں کوئی جگہ بنجر نہیں رہے گی مگر یہ کہ آباد ہوجائے اور روح اللہ عیسی ابن مریم نازل ہوکر اس کے پیچھے نماز ادا کرے گا ۔

راوی کہتا ہے میں نے کہا آپ کا قائم کب خروج کرے گا تو امام نے فرمایا اس وقت کہ جب مرد عورتوں کی شبیہ بننے لگیں گے اور عورتیں مردوں کی مانند ہونے لگیں گی اور مرد مردوں پر اکتفا کریں اور عورتیں عورتوں پر، جب عورتیں زینوں پر سوار ہونے لگیں گی اور جھوٹی گواہیاں قبول ہونا شروع ہوجائیں گی اور عادلانہ گواہیاں رد کردی جائیں گی اور جب لوگ خونریزی، زنا، سود خوری کو آسان سمجھیں گے اور جب شریر لوگوں سے ان کے زبان کی ڈر کی وجہ سے درگذر کیا جائے گا اور جب سفیانی شام سے اور یمنی یمن سے خروج کرے گا اور جب سورج گرہن واقع ہوگا اور آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں سے ایک جوان کہ جس کانام محمد بن حسن یا نفس ذکیہ ہے رکن و مقام کے درمیان قتل کردیا جائے گا اور جب آسمان سے ایک پکار بلند ہوگی کہ حق اس کے ساتھ ہے اور اس کے شیعوں کے ساتھ ہے یہ وہ وقت ہے کہ جب ہمارا قائم خروج کرے گا اور جب وہ ظہور کرے گا تو خانہ کعبہ پر تکیہ کئے ہوگا اور ۳۱۳مرد اس کے گرد جمع ہوں گے اور اس کے کلام کا آغاز قرآن کریم کے اس آیہ شریفہ سے ہوگا بقیۃ اللہ خیرلکم ان کنتم مومنین پھر وہ کہے گا کہ میں ہی زمین میں بقیۃ اللہ ہوں اور میں ہی خدا کا خلیفہ ہوں اور اس کی حجت ہوں تم لوگوں پر اور ہر درود پڑھنے والا اس پر اس طرح سلام کرے گا اسلام علیک یا بقیۃ اللہ فی ارضہ۔


                                                              

                                                                                  

+ تحریر شده  10 Apr 2008میں ٹایم 1 PM  قلم نگار سیفی  | 
رھبر معظم انقلاب اسلامی کا امام رضا علیہ السلام کے حرم مبارک میں خطاب اور ولایت کے عاشقوں کے روح پرور مناظر کی جھلک

+ تحریر شده  31 Mar 2008میں ٹایم 12 PM  قلم نگار سیفی  | 
ہنري کاربن (hunry corban) فرانس کا معروف اسلام شناس کہتا ہے:۔

عصر حاضر ميں غيبت کے مفہوم اور غيبت کي حقيقت پر دقيق اور عميق مطالعہ نہيں کيا گيا۔ ۔ ۔ ميرے نزديک اس حقيقت کا معني يہ ہے کہ يہ حقائق کے معني کا ايک لامتناہي اور ابدي سرچشمہ ہے ۔۔ اسلام کي معنوي حيات اور اس کے دوام کا تصور صرف شيعہ تشريح سے ہي ممکن ہے اور اس سے اسلامي معاشروں ميں آنے والے ہرقسم کے تغير و تبدل کا حل ممکن ہے امام زمانہ (عج) وہ باکمال مفہوم ہے کہ جو غيبت کے مفہوم کو پايہ تکميل تک پہنچاتا ہے ليکن يہ مفہوم بطور کامل امام غائب کي شخصيت سے متعلق ہے ميں مغربي فکر کو اپناتے ہوئے امام غائب کے مفہوم کو ايک نيا اور جديد مفہوم محسوس کرتا ہوں اورمجھے ايسا لگتا ہے کہ ميرے دل ميں يہ الہام ہورہا ہے کہ انسان کي معنوي حيات کا اس سے گہرا تعلق ہے ۔(رسالت تشيع در دنيائے امروز سيد محمد حسين طباطبائي مقدمہ ہنري کاربن صفحہ ۲۵تا ۳۵)

+ تحریر شده  29 Mar 2008میں ٹایم 11 AM  قلم نگار سیفی  | 
بزرگ ترین عید بشریت، ظهور حضرت حجت(عج) استمی‌شود از تو جهان را پر کردبررسی انتظار و منش مهدویت در صبح دم امید

ممتاز شاعر ابو ترابی کہتے ہیں:ہم ماہ رمضان میں ایک ماہ روزہ رکھنے کے بعد جب عید فطر تک پہنچتے ہیں تو ایک اندرونی لذت اور نشاط کا احساس کرتے ہیں لیکن نوروز میں ہم اس باطنی شادابی سے غفلت کرتے ہوے صرف ظاہری بھار کی خوشیوں پر اکتفاء کرتے ہیں۔

یہ شاعر یاد دلاتے ہیں :کیا بہتر تھا کہ جیسے مذھبی اعیاد میں ہمارے اندر سرور کا انقلاب پیدا ہوتا ہے اس اہم دن بھی ہم معنوی شادمانی کو سمیٹتے۔

آخر میں کہتے ہیں:نوع انسانی کی سب سے بڑی عید حضرت حجت(عج) کا ظہور ہے،ہم اس عظیم دن کے منتظر ہیں کہ جو اپنی جگہ بے نظیر وبے مثل ہے۔وہ دن کہ جس کی ہمیں بشارت دی گی ہے ،ایک دن حضرت آجا ییں گے پھر مظلوم تھکی ہویی بشریت کو عدالت کی نوید ملے گی پھر سرد و تاریک دور ختم ہو جاییگا اور ہم مدینہ فاضلہ میں قدم رکھیں گے

 

+ تحریر شده  23 Mar 2008میں ٹایم 11 AM  قلم نگار سیفی  |