تبليغاتX
مهدی فورم

شيعہ نيوز سا ئٹ کے مطابق غزہ کے مظلوم مسلمانوں پر صيھونستي يلغار ديگر عالمي ذرايع ابلاغ کي طرح ايران ميں اخبارات ،ريڈيو اور ٹي وي کي اہم ترين خبروں ميں شمار ہوتي ہے۔اور ہر لمحہ لمحہ کي خبر نشر ہو رہي ہے۔

ليکن ہمسايہ اسلامي ملک پاکستان ميں کافي عرصہ سے خارجي صفت وحشي طالبان  کے ہاتھوں شيعہ نسل کشي بالخصوص پاراچنار ميں شيعوں اور محبان اہل بيت کے بےرحمانہ اور وحشتناک قتل عام اور ان کے ہاتھ پاوں کاٹنے اور ذبح کرنے کے واقعات پر  عالمي۔اسلامي ذرايع ابلاغ کا سرد رويّہ اور بالخصوص شيعہ اسلامي ملک ايران کا سکوت کيا معني رکھتا ہے؟ درحالانکہ پاکستان ،افغانستان اور عراق کے مظلوم شيعہ عظيم شيعہ ايران کے علاوہ کويي اور پشت پناہ نہيں رکھتے۔ايک طويل مدت کے محاصرے ميں گھرے ہويے۔فقر اور اقتصادي بحران،ہر لمحہ جان کے خوف ميں يہ عظيم باحوصلہ مسلمان ايران سے صرف يہ توقع تو رکھ سکتے ہپيں کہ اگر مملکت ايران انکي مادي معنوي مدد نہيں کرسکتي، پاکستاني گورمنٹ سے احتجاج نہيں کرسکتي تو کم از کم ميڈيا ميں ديگر مظلوم مسلمانوں کي مانند انکا بھي ذکر کيا جايے۔

+ تحریر شده  19 Jan 2009میں ٹایم 12 PM  قلم نگار سیفی  | 

مصركے مفتی علی جمعہ نے اسرائيلی جارحيت كے حوالے سے كہا ہے كہ اسرائيل نے مقبوضہ فلسطين میں نيا ہولو كاسٹ برپا كر ديا ہے۔ جس سے تاريخ بشريت میں ايك نئے تاريك موڑ كا اضافہ ہو گيا ہے اوراسرائيل كے جرائم نازيوں كے جرائم سے كہیں زيادہ سنگين ہیں۔

  سعودی اخبار "عكاظ" نے لكھا ہے كہ مفتی مصرعلی جمعہ نے سعودی عرب میں موجود فلسطينی زخميوں كی تيمارداری كی اور كہا: اسرائيل نے انسانيت كے خلاف وحشی ترين جارحيت كا ارتكاب كرتےہوئےفلسطينی عوام كا قتل عام كيا ہے۔ انھوں نے كہا كہ اسرائيل ايسے جرائم كا ارتكاب كر رہا ہےجس كا تاريخ كےظالم ترين افراد نے بھی ارتكاب نہیں كيا ۔ دوسری طرف سے الازہر يونيورسٹی كے ۱۲ ہزار اراكين نے اپنی ايك دن كی تنخواہ غزہ كے مظلوموں كو دينے كا اعلان كيا ہے ۔ الازہر يونيورسٹی كے فارغ التحصيل طلباء نے ايك عالمی كانفرنس كا انعقاد كر كے اسلامی ، عربی اور عالمی اداروں سے اپيل كی ہے كہ غزہ میں اسرائيلی جارحيت كو فوراً بند كروائیں۔ كانفرنس كے اختتام پر شركاء نے قاہرہ میں ايك بہت بڑا مظاہرہ بھی كيا جس میں اسرائيل كے خلاف سخت نعرہ بازی كی گئی اور فوری جنگ بندی كا مطالبہ دہرايا گيا۔

+ تحریر شده  13 Jan 2009میں ٹایم 3 PM  قلم نگار سیفی  | 
حوزہ علمیہ كے استاد آيت اللہ سبحانی نے غزہ كے حوالے سے اپنے پيغام میں كہا ہے كہ ۲۰۰۹عيسوی كا آغاز غزہ میں اسرائيلی حكومت كی طرف سے كھلی دہشت گردی اور جارحيت سےہوا جس میں كئی سو خواتين اور بچے اب تك خاك و خون میں غلطاں ہو چكے ہیں اوراب یہ جارحيت فضائی ، بری اور بحری تينوں راستوں سے جاری ہے اور عرب ممالك كی طرف سے اب تك كوئی خاص موقف سامنے نہیں آيا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے كہ اسرائيل اور بعض عرب ممالك كے درميان اس حوالے سے كوئی خفیہ معاہدہ ہو چكا ہے۔ شايد یہی وجہ سے ہے كہ كچھ عرب ممالك غزہ كے مظلوم فلسطينيوں تك امدادی سامان پہنچانے كے لیے بھی راستے بند كیے ہوئے ہیں۔ رپورٹ كے مطابق ۲۰۰۸ عيسوی كے آخر میں شروع ہونے والا فلسطينيوں كا قتل عام ۱۹۴۸ء كے بے رحمانہ قتل عام كا ہی تسلسل ہے اور وہی تاريخ دہرائی جا رہی ہے۔ كوئی انسانی مكتب اور كوئی آسمانی دين ايسی ہولناك اور بے رحمانہ جارحيت كی اجازت نہیں ديتا ۔ آج اسرائيل اقتدار كے نشے میں یہ كھلی دہشت گردی كر رہا ہے ليكن انہیں یہ جان لينا چاہیے كہ ان كے اقتدار كے دن گنے جا چكےہیں اور زوال بہت قريب ہے۔
+ تحریر شده  9 Jan 2009میں ٹایم 7 PM  قلم نگار سیفی  | 
 

 عاشورا کے آخری لمحات میں آپ کی دعا

پروردگارا! تیری جگہ بلند، تو عظیم الشان قدرت والا، سخت قہر و غضب والا، مخلوقات سے بے نیاز، وسیع قدرت والا، جس پر چاہتا ہے قدرت رکھتا ہے۔ بہت نزدیک رحمت والا، سچے وعدے والا، زیادہ نعمتوں والا اور اچھی آزمائش والا ہے۔

جب پکارا جائے تو تو بہت نزدیک ہے۔ اپنی مخلوقات پر محیط ہے۔ جو تیری طرف آئے، تو اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اپنے ارادے پر قادر ہے۔ جسے چاہے پالیتا ہے۔ جب تیرا شکرادا کیا جائے تو شکر قبول کرتا ہے اور جب تجھے یاد کیا جائے تو یاد آتا ہے۔

تیری طرف نیاز مند ہوکر تجھے پکار رہا ہوں۔ایک فقیر اور خالی ہاتھ تیری طرف آیا ہوں۔ خوف اور ڈر سے تیری بارگاہ میں آ یا ہوں۔ دکھوں سے تیرے حضور میں گریہ کناں ہوں۔ ضعیف ناتوانی کی صورت میں تجھ سے مدد کا طلبگار ہوں۔ تجھے اپنے لئے کافی سمجھتے ہوئے توکل کرتا ہوں۔

پروردگارا! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق سے فیصلہ فرما۔ تحقیق انہوں نے ہمیں فریب دیا، دھوکہ دے کر ہمیں قتل کر رہے ہیں جبکہ ہم تیرے نبی کی بیٹی کی اولاد ہیں کہ جنہیں رسالت جیسے عظیم منصب کیلئے منتخب فرمایا ہے۔

انہیں اپنی وحی پر امین قرار دیا ہے۔ پروردگارا! ہمارے لئے کوئی راہ نکال دے، اے بہترین رحمت کرنے والے۔(اقبال الاعمال:۶۹۰،بحار۱۰۱:۳۴۸

+ تحریر شده  31 Dec 2008میں ٹایم 1 PM  قلم نگار سیفی  | 
اولین اعزام مهدوی فرهنگیان کرمانی در سال جاری انجام شد

بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے حزب موتلفہ اسلامی كے ترجمان كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ حزب موتلفہ اسلامی كے اراكين نے حضرت آيت اللہ العظمی صافی گلپائيگانی سےملاقات كی ہے، آيت اللہ العظمی صافی گلپائيگانی نےخطاب كرتے ہوئے كہاكہ ہم سب كو چاہیے كہ امام زمانہ كے راستہ پر چلیں اوران كے مقاصد كو معاشرہ میں عملی جامہ پہنائیں۔ آيت اللہ العظمی صافی گلپائيگانی نے محرم الحرام كی آمد كے سلسلہ میں كہا كہ محرم الحرام میںمكتب امام حسين (ع) كھل جاتا ہے۔ جس كے علم كی روشنی ہر گلی كوچہ میں نظر آتی ہے۔ انھوں نے حجاب كے خلاف مغربی ممالك كے پروپيگينڈے كا تذكرہ كرتےہوئے كہا كہ خواتين اس وقت كڑے امتحان سے گزر رہی ہیں كيونكہ مغربی ممالك حجاب اورعفت و پاكدامنی كو مخدوش كرنےپر تلے ہوئے ہیں۔ لہذا اس دور میں ايسی خواتين كا ہونا ضروری ہے جو اسلامی روايات كی پاسداری كریں۔ قرآن مجيد كی توہين كے رد عمل میں حزب موتلفہ كے اقدامات كو سراہا اور تنظيم كا شكریہ ادا كيا۔ حزب موتلفہ كے سربراہ بنی حبيبی نے حضرت آيت اللہ العظمی صافی گلپائيگانی سے ملاقات كے موقع پر غير اسلامی تنظيموں كی طرف سے اسلام كے خلاف سرگرميوں كا تذكرہ كرتےہوئے كہا كہ اس وقت بہت سی تربيت يافتہ تنظيمیں اسلام كا چہرہ مسخ كر نے كی كوشش كر رہی ہیں لہذا ہمیں چاہیے كہ ان كے عزائم كو خاك میں ملا دیں۔ نبی حبيبی نے كہا كہ مرجعيت كو ہماری ضرورت نہیں ہے بلكہ ہم مرجعيت كے محتاج ہیں۔

+ تحریر شده  28 Dec 2008میں ٹایم 3 PM  قلم نگار سیفی  |