تبليغاتX
مهدی فورم
 کچھ لوگ یہ  فکر کرتے ہیں کہ حضرت مہدي علیہ السلام کے ظہور ميں تأخير تين سو تيرہ مخلص افراد اور دوستوں کے نہ ہونے کي وجہ سے ہے٬یہ ايک غلط فکر ہے جس سے چھٹکارا حاصل کرنا ضرو ري ہے٬ کيونکہ حضرت کے اصحاب اور پيروي کرنے والے اور آپ کے ساتھ استکباري طاقتوں سے ٹکرانے والے صرف نہيں ۳۱۳ افراد ميں منحصر نہيں ہے بلکہ روايات کے مطابق جب تک دس ہزار افرادآپ کي حمايت کيلئے مکہ مکرمہ ميں جمع نہيں ہوں گے ٬ اس وقت تک آپ رسمي طور پر قيام کا اعلان نہيں کريں گے لہذا آپ کو بہت سے مخلص دوستوں اور اصحاب کي ضرورت ہے٬ جس کي طرف ميں توجہ دے کر اپنے اندر يہ صلاحيت پيدا کرنے کے ساتھ ساتھ د وسرے لوگوں کو بھي حضرت کے ظہور کے لئے آمادہ کرنے کي کوشش کرني چاہئے تاکہ  جتنا جلدي ہوسکے حضرت مہدي علیہ السلام ظہور فرما کر دنيا ميں امن و آسایش کي فراہمي کے ساتھ ساتھ ٬ عدل و انصاف پر مبني ايک عالمگير  حکومت قائم کرسکيں۔نیز روايات ميں جن تين سو تيرہ (۳۱۳) افراد کا ذکرہوا ہے يہ وہ نيک صالح لياقت اور باصلاحيت حضرات ہيں جو امام مہدي علیہ السلام کي حکومت ميں ان کے گورنر٬ وزير٬ مشير اور فوجي جنرل ہوں گے نہ کہ سب کا سب لشکر یہی ہوں گے۔
+ تحریر شده  15 Apr 2009میں ٹایم 10 AM  قلم نگار سیفی  | 
 

سعودی حکمرانوں نے اصلاحات کے اپنے حالیہ دعؤوں کے برعکس اپنی تازہ ترین فرقہ وارانہ کاروائیوں کے دوران شیعہ اکثریتی صوبے «الاحساء» کے بے شمار شیعہ شہریوں کو حراست میں لیا ہے ؛ یہ کاروائیاں الاحساء کی گورنر «بدر بن جلوي» کے زیر نگرانی ہورہی ہیں اور اس کا واحد سبب فرقہ وارانہ تعصب ہے.

ابنا کی رپورٹ کے مطابق کریمنل انوسٹی گیشن کے ادارے نے الاحساء کے شہر «الرمیلہ» کی 40 سالہ شہری «محمد حسين عبود» کو عزاداری کا سیاہ لباس بیچنے کے الزام میں تحقیقات کے لئے بلوا کر گرفتار کیا اور انہیں جیل بھیج دیا.

اسی شہر کے ایک 28 سالہ باشندے «صالح محمد عبداللہ» کو صرف اس لئے گرفتار کیا گیا ہے کہ انہوں نے شہر کی ایک مسجد کے منار کا گلدستہ تعمیر کیا تھا!.

اسی حال میں سعودی حکام نے الہفوف کے علاقے "البطاليہ" و "حي الکوت" نامی علاقوں کی دو امامبارگاہوں اور مساجد کو فرقہ وارانہ رجحانات سے متأثر ہوکر بند کردیا اور یہ اقدام بھی بن جلوی کی ہدایات پر عمل میں لایا گیا ہے.

یادرہے کہ سعودی حکمرانوں نے غزہ کی مظلومین کی حمایت میں شیعہ باشندوں کے جلسے جلوسوں اور اس کے بعد 28 صفر کو رسول اللہ (ص) کی وفات کے دن عزاداری کے مقصد سے مدینہ منورہ میں شیعیان اہل بیت (ع) کے اجتماع کے بعد سعودی حکمرانوں نے شدید ترین غیر انسانی حملے کرکے شیعہ زائرین کو مسجد النبی (ص) کے اندر ہی شہید کردیا اور مختلف علاقوں میں شیعیان حیدر کرار کے املاک کو نقصان پہنچایا اور اس وقت سے شیعہ باشندوں کے خلاف سعودی عرب کی ریاستی دہشت گردی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اور اب تک دسیوں شیعہ مساجد اور امامبارگاہوں کو بند کردیا ہے اور سینکڑوں افراد کو جیلوں میں بند کردیا ہے مگر نہ تو کسی حکومت نے سعودی شہریوں کو بنیادی شہری حقوق سے محروم کرنے کے اس سلسلے پر نہ تو کوئی تنقید کی ہے اور نہ ہی کسی انسانی حقوق کی پاسداری کی دعویدار تنظیم نے ان کے مصائب پر آواز اٹھائی ہے.

یہ بھی قابل ذکر امر ہے کہ غزہ کے مسئلے کے بعد سعودی عرب کے شیعیان اہل بیت علیہم السلام نے مسجد النبی (ص) میں گاڑیاں داخل کرنے اور جوتوں کے ساتھ داخل ہوکر گولیاں چلانے کے وحشیانہ اقدام میں سعودی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نامی بدنام زمانہ انتہاپسند تنظیم کا کردار سب سے زیادہ قابل توجہ رہا.

+ تحریر شده  5 Apr 2009میں ٹایم 9 AM  قلم نگار سیفی  | 

امام حسن عسکری علیہ السلام کی زندگی کا مختصر جائزہ
حضرت امام حسن عسکری (ع) آٹھ ربیع الثانی 232 ہجری بروز جمعہ مدینہ میں پیدا ہوئے
آپ  آسمان امامت و ولایت  اور خاندان وحی و نبوت کے  گیارہويںچشم و چراغ ہیں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کا مقابلہ بھی اپنے اجداد طاہرین کی طرح اس وقت کے ظالم و جابر و غاصب وعیار و مکار عباسی خلفا سے تھا ۔ آپ کی مثال اس دور میں ایسی ہی تھی جس طرح ظلم و استبداد کی سیاہ آنداھیوں میں ایک روشن چراغ کی ہوتی ہے ۔
آپ مہتدیوں اور معتمدوں کی دروغگوئی ، فریب ، سرکشی کے دور میں گم گشتہ افراد کی ہدایت کرتے رہے ۔ آپ کی امامت کے دور میں عباسی خلفاء کے ظلم و استبداد کے محلوں کو گرانے کے بہت سے اہم اور تاریخی واقعات رونما ہوئے جو براہ راست امام (ع) کی ہدایات پر مبنی تھے ان میں سے مصر میں احمد بن طولون کی حکومت کا قیام ، بنی عباس کے ظلم و ستم کے خلاف حسن بن زید علوی کی درخشاں خونچکان تحریک اور آخر کار حسن بن زید کے ہاتھوں طبرستان کی فتح اور صاحب الزنج کا عظیم جشن اس دور کے اہم واقعات میں شامل ہے ۔ اس کے علاوہ مخفیانہ طور سے جو ارتباط امام علیہ السلام سے برقرار کئے جاتے تھے اس کی وجہ سے حکومت نے اس باب ہدایت کو بند کرنے کے لئے چند پروگرام بنائے ۔ پہلے تو امام کو عسکر چھاؤنی میں فوجیوں کی حراست میں دے دیا ۔ دوسرے مہتدی عباسی نے اپنے استبدادی اور ظالمانہ نظام حکومت پر نظر ثانی کی اور گھٹن کے ماحول کو بہ نسبت آزاد فضا میں تبدیل کیا اور نام نہاد ، مقدس مآب ، زرخرید ملّا عبدالعزیز اموی کی دیوان مظالم   کے نام سے ریا کاری پر مبنی ایک ایسی عدالت تشکیل دی جہاں ھفتے میں ایک دن عوام آکر حکومت کے کارندوں کے ظلم و ستم کی شکایت کرتے تھے ۔ لیکن اس ظاہری اور نام نہاد عدالت کا درحقیقت مسلمانوں پر کوئی اثر نہ ہوا بلکہ روز بروز امام حسن عسکری علیہ السلام کی طرف مسلمانوں کا حلقہ  وسیع  سے  وسیع تر  ہوتا  چلاگیا  اور  چاروں  طرف  سے حریت پسند مسلمانوں کی تحریک سے بنی عباس کی حکومت کی بنیادیں ہلنے لگیں اور عوام کی سیل آسا تحریک سے بنی عباس کی حکومت کے زوال کے خوف سے بنی عباس نے عوام میں اپنی مقبولیت پیدا کرنے کے لئے پروگرام بنایا کہ پہلے تو مال و دولت کو عوام کے درمیان تقسیم کیا جائے تا کہ لوگوں کی سرکشی کم ہو اور عوام کو خرید کر ایسا ماحول بنادیا جائے کہ جس امام حسن عسکری علیہ السلام کو شہید کرنے میں آسانی ہو ۔ تاریخ شاہد ہے کہ تمام دنیا کے جابر وظالم حکمرانوں کا یہ دستور رہاہے کہ جب بھی ان کے استبداد کے خلاف کسی نے آواز اٹھائی تو انہوں نے اس بات کی کوشش کی کہ جلد سے جلد اس آواز کو خاموش کردیں اگرچہ شاید ان کو یہ معلوم نہیں کہ آنے والی نسل میں ان کے لئے سوائے رسوائی مذمت کے کچھ نہیں ہوگا اور ان کے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی دنیا نہ صرف یہ کہ حمایت کرے گی بلکہ ان بزرگون کو عظمت کی نگاہ سے دیکھی گی اور ان مظلوموں کی زندگی کے نقش قدم پر چل کر فخر کرے گی امام حسن عسکری (ع) نے بھی ہمیشہ اپنے اجداد کی طرح دین اسلام کی حفاظت اور پاسداری میں اپنی زندگی کے گرانقدر لمحات کو صرف کیا اور دین کی حمایت کرتے رہے اگرچہ دین کی حمایت اور عوام کی خدمت عباسی حکمرانوں کے لئے کبھی بھی خوش آئند نہیں رہی لیکن خداوند متعال نے اپنی آخری حجت اور دین اسلام کے ناصر حضرت امام مہدی (ع)  کو امام حسن عسکری کے گھر میں بھیج کر واضح کردیا ہے کہ دین اسلام کے اصلی مالک و وارث اہل بیت رسول (‏ع) ہی ہیں ۔

+ تحریر شده  5 Apr 2009میں ٹایم 9 AM  قلم نگار سیفی  |