
آيت اللہ العظمی بہجت (قدس سرہ)کی نصيحتیں:
قرآن
خدا سے دعا كریں كہ وہ ہمیں قرآن مجيد اور عترت سے جدا نہ كرے قرآن عترت كے ساتھ ہے۔ اور عترت قرآن كے ساتھ ہے اگر كسی كے پاس ان میں سے ايك ہو تو حقيقت میں اس كے پاس ان میں سے كچھ بھی نہیں ہے غير مسلموں سے ہمارا امتياز قرآن و عترت كے ذريعے ہے اگر ہمارے پاس قرآن و عترت نہ ہوں تو پھر بھی غير مسلموں كی طرح ہیں اور اگر ہمارے پاس عترت نہ ہو تو ہم ان مسلمانوں كی طرح ہیں كہ جو اہل ايمان نہیں ہیں۔
استاد كے انتخاب میں دقت
اپنے استاد كے بارے میں غور وفكر كریں كہ وہ صراط مستقيم پر ہو۔
خدا بخشنے والا ہے
حضرت عيسی علیہ السلام نے خدا كے پاس ابليس كی بھی شفاعت كی خدا نے فرمايا كہ میں بخشنےكےلیے تيار ہوں ليكن ابليس كہے كہ میں نے گناہ كيا ہے ، اشتباہ كيا ہے۔
ياد خدا سعادت تك پہنچنے كا راستہ ہے
خلقت كی غرض اور سبب عبوديت ہے" خلقت الجن والانس الايعبدون" سورہ مبارك ذاريات آيت ۵۶۔ اور حقيقت عبوديت ترك گناہ ہے۔
نماز
اعلم ان كل شیء من عملك تبع لصلاتك : تمہارا پر عمل نماز كے تابع ہے: تمہیں پنجگانہ نمازیں اول وقت میں ادا كرنی چائیں۔ تمہیں تمام وجود سے خدا كی طرف توجہ كرنی چاہیے اس صورت میں تم سعادت سے محروم نہیں ہو گے۔
اپنی معلومات پر عمل كریں
كوئی شخص ايسا نہیں ہے جو كہے كہ كچھ بھی نہیں جانتا اگر وہ یہ كہتا ہے تو وہ جھوٹ بولتا ہے۔ غير معصوم بعض چيزوں كو جانتے ہیں اور بعض چيزوں كو نہیں جانتے تو جن چيزوں كو وہ جانتے ہیں اگر ان پر عمل كریں تو جن چيزوں كو نہیں جاتے وہ ان كو معلوم ہو جائیں گی" ولذين جاھدو افينا لھدينھم سلنا"(سورہ مبارك عنكوب آيت ۲۹)
اعمال ہميشہ باقی ہیں
نيك اعمال اور خدا كی اطاعتیں انسان كے ساتھ ہميشہ رہتی ہیں۔ انسان ان كو یہاں سے قيامت كے دن تك اپنے ساتھ لے جائے گا انسان جہاں بھی ہے اعمال صالحہ اس كے ساتھ ہیں اعمال صالحہ ختم ہونے والے نہیں ہیں۔
خداہمیں ديكھ رہا ہے
ہم خدا كے مہمان ہیں ہم خدا كے دسترخوان پر بیٹھے ہیں وہ ہمیں ديكھ رہا ہے خدا جانتا ہے كہ ہم كيا كر رہے ہیں خدا یہ بھی جانتا ہے كہ ہم كيا فكر كر رہے ہیں۔ خدا ہمیں ہم سے بہتر جانتا ہے۔