تبليغاتX
مهدی فورم - دجال ايک معين شخص کا نام ہے يا نہ بلکہ ايک فکر اور روش کا نام ہے؟

دجال کالفظ( دجل) سے ليا گياہے اورعربوں کي لغت ميں   ہر جھوٹے اور حيلہ باز کو دجال کہتے ہيں ٬ دجال کا لفظ مسيحيوں کي مقدس کتاب (انجيل )ميں بھي بہت زيادہ ديکھنے ميں آتاہے۔( انجيل يوحنا٬ باب ۲ ٬ آيہ ۱۸ ٬ ص۲۲.) ميں يوں لکھا ہے : جو عيسي کے مسيح ہونے کا انکار کرتاہے جھوٹا٬ حيلہ باز اور دجال ہے کہ باب بيٹے کا انکار کرتاہے.

مسيحيوں کي مقدس کتاب ميں دجال کا انگريزي ترجمہ ٬ انٹي کرايسٹ(Anti Krist) يعني مسيح کا مخالف اور دشمن  ہواہے۔

دجال سے متعلق احاديث کا اصلي ماخذ مسلمانوں کے درميان اہل سنت کي کتابيں ہيں اور ان ميں بہت  زيادہ حديثيں دجال کے بارے ميں پائي جاتي ہيں جن کے مطابق دجال کو قيامت اور معاد کي علامتوں ميں شمار کياگياہے ۔( سنن ترمذي٬ ج۴٬ ص۵۰۷ سے ۵۱۹؛ سنن ابي داوود ٬ ج۴٬ ص۱۱۵؛ صحيح مسلمہ٬ ج۱۸٬ ص۴۶ سے ۸۱.)

شيعہ احاديث کي کتابوں ميں دجال کے بارے ميں صرف دو روايتيں موجود ہيں جن ميں دجال کے خروج کو حضرت مہدي عليہ السلام کے ظہو ر کي علامتوں ميں شمار کيا گياہے ۔( صدوق٬ کمال الدين٬ ص۵۲۵ و ۵۲۶.)

ليکن يہ دونوں روايت سند کے لحاظ سے ضعيف ہيں اور قابل اعتما د نہيں ہے لہذا شيعہ کتابوں ميں دجال کے خروج کا حضرت مہدي عليہ السلام کے ظہو کي علامتوں سے ہونے پر قابل اعتماد دليل نہيں پائي جاتي .مذکورہ بيانات کي روشني ميں اجمالي طور پر يہ کہا جاسکتاہے کہ دجال کے اصل واقعہ کا صحيح ہونا بعيد نہيں ہے٬ ليکن اس کي جو تعريف و توصيف کي گئي ہے ان کو مدنظر رکھتے ہوئے يہ کہہ سکتاہے کہ يہ ايک افسانہ ہے اس فرض کے قبول کرنے کے ساتھ اجمالي طور پر دجال کا اصلي واقعہ صحيح ہے يہ سوال پيش آتاہے کہ مذکورہ روايات ميں دجال سے مراد کياہے؟

اس استدلال کے جواب ميں دو تين  نکات بيان کرتے ہيں ملاحظہ فرمائيں:

۱۔ رجال کے لغوي معني کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہيں کہ دجال کسي مخصوص اور معين شخص کانام نہيں ٬ بلکہ مراد يہ هروہ شخص ہے جو مختلف قسم کے وسايل اور مکر و فريب کے ذريعہ لوگوں کو دھوکہ دينے کي کوشش کرتاہے وہي لوگ دجال ہيں اور وہ احاديث جو يہ کہتى ہے کہ طول تاريخ ميں کئي دجال ظاہر ہوں گے مذکورہ احتمال کو تقويت پہونچاتى ہے يعني دجال کسي معين شخص کا نام نہيں بلکہ ہر جھوٹا ٬ حيلہ باز٬ مکار اور گمراہ کرنے والےکو دجال کہاجاتاہے چنانچہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمايا::قال رسول اللہ يکون قبل خروج الدجال نيف علي سبعين دجالاً (کنزالعمال ٬ متقي ھندي٬ ج۱۴ ٬ ص۲۰۰)

يعني دجال کے خروج سے پہلے ستر سے زيادہ دجال ظاہر ہوں گے دوسري روايت بھي اس بات کي تائيد کرتي ہے کہ دجال کسي مخصوص شخص کانام نہيں ہے چنانچہ ايک اور روايت ميں رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا: تما م پيغمبران الہي اپني قوم کو دجال کے فتنہ سے ڈراتے تھے

مختصر يہ کہ ان روايات کي روشنى ميں يہ بات واضح ہوجاتي ہے ک حضرت مہدي عليہ السلام کے قيام اور ظہور سے پہلے٬ جھوٹے٬ حيلہ باز اور مکار افراد٬ لوگوں کو فريب دے کر گمراہ کرنے کي کوشش کريں گے۔

۲۔ شايد د جال کا لفظ کنايہ ہو اور دنيا والوں پر کفر کا کلچراورثقافت کے تسلط اور يلغار کي طرف اشارہ ہو٬ جو ايک پرفريب ظاہر سا زي اورصنعت و ٹيکنالوجي کے بل بوتے پر لوگوں کو فريب دے کر گمراہ کرنے کي کوشش ميں مصروف ہيں۔ شايد اسي لئے تمام پيغمبروں نے اپني امتوں کو دجال کے فتنہ٬ اسلام دشمن کفار کي ثقافتي ٬ صنعتي اور ٹيکنالوجي کی يلغار اور مادي طاقت سے ڈراياہو٬ تاکہ مسلمان اور دوسرے موحد افراد  انکي سازشوں کا شکار نہ  ہوجائيں۔

۳۔ دجال کا اصل و اقعہ اگر صحيح بھي ہو ٬ تو يہ بات کسي ترديد کے بغير کہي جاسکتي ہے کہ افسانوں کي آميزش اور مخلوط ہونے سے اس کي حقيقي صورت مسخ ہوگئي ہو ٬ يہ کہا جاسکتاہے کہ حضرت مہدي عليہ السلام کے ظہور کے وقت ايک شخص پيدا ہوگا جو فريب کاري اورحيلہ سازي ميں سب سے آگے  ہوگا اور جھوٹ  بولنے ميں گذشتہ تمام دجالوں سے بازي لے جائے گا اپنے جھوٹے دعووں سے لوگوں کو گمراہ کرے گا اتنا جھوٹ بولے گا کہ اچھائي کو برائي اور برائي کو اچھائي اور ثابت کرے گا اور جنت کو جہنم او جہنم کو جنت بنا کر پيش کرے گا۔

+ تحریر شده  2 Mar 2009میں ٹایم 11 AM  قلم نگار سیفی  |