تبليغاتX
مهدی فورم - شیعہ تعصب
 شيعه در نگاه وهابيانشيعه در نگاه وهابيانشيعه در نگاه وهابيان

الشرق الاوسط:مکہ مکرمہ میں بیت اللہ الحرام کے قرب و جوار میں ہماری ملاقات شیخ یوسف قرضاوی کے ساتھ ہوئی. اس ملاقات میں عالم اسلام میں تشیع کے فروغ اور شیعہ تعصب (!) پر بات ہوئی. شیخ یوسف قرضاوی نے کہا کہ مکمل طور پر سنی العقیدہ ممالک میں تشیع کے فروغ کی اجازت نہیں دی جاسکتی... میں مصرکو اچھی طرح جانتا ہوں اور جانتا ہوں کہ صلاح الدین ایوبی کے زمانے [میں ان کے ہاتھوں اہل تشیع کے قتل عام] کے بعد اس ملک میں شیعوں کا وجود ہی نہیں تھا لیکن اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ اہل تشیع نے مصر میں اپنا اثر ورسوخ بڑھا دیا ہے اور اب تو وہاں شیعہ لکھاری روزناموں میں لکھنے لگے ہیں اور کتابیں شائع کرنے لگے ہیں اور ان کی صدا مصر کے کونے کونے تک پہنچتی ہے. سوڈان، تیونس، الجزائر اور مراکش میں اور حتی کہ ملائشیا، انڈونیشیا، نائجیریا اور سینگال جیسےغیرعرب ممالک میں تشیع داخل ہوگیا ہے.                                            

{عرض حال: مصر اور دیگر ممالک میں بےحیائی اور شر و فساد کے لئے اسرائیلی اور مغربی ممالک کی کمپنیاں سرگرم عمل ہیں؛ مصر روس اور وسطی ایشیا سے ہزاروں لڑکیاں سمگل کرکے اسرائیل پہنچانے کا روٹ ہے؛ مصر میں عیسائیت کے تبشیری فعال ہیں؛ 1991 کی تیل کی جنگ میں دنیا کے ممالک نے امریکہ کی مدد کے لئے فوجیں روانہ کیں تو مصری حکومت نے 10 ہزار لڑکیوں کا تحفہ دیا کہ وہ مسلمان لڑکیاں جاکر عرب کے صحراؤں میں یہودی اور نصرانی سپاہیوں کی «خدمت» کریں!، خلیجی ریاستوں میں بعض ریاستیں جوئے اور بدکرداری کے بین الاقوامی اڈوں میں تبدیل ہوچکے ہیں، قطر میں اسرائیل کا سفارتخانہ قائم ہے؛ تمام خلیجی ریاستوں میں امریکی اڈے قائم ہیں؛ مگر قرضاوی صاحب کو یہ سب نظر نہیں آتا اور اگر ڈنمارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی توہین ہوتی ہے اور قطر کے مسلمان ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرتے ہیں تو قرضاوی صاحب «ڈنمارک کی درخواست پر» بائیکاٹ کے خلاف سرگرم عمل ہوتے ہیں مگر کہیں اگر انہیں شیعہ نظر ائے تو وہ تشویش میں مبتلا ہوجاتے ہیں! بڑی عجیب بات ہے کہ ایک طرف سے اسرائیل تشیع کے فروغ سے فکرمند ہوکر مقبوضہ فلسطین میں «شیعہ شناسی» انسٹٹیوٹ کی بنیاد رکھتا ہے اور تحقیق کرکے تشیع کا سدباب کرنے کے لئے منصوبہ بندی کرتا ہے اور دوسری طرف سے بظاہر اسرائیل کے یہ دشمن بھی تشیع سے خائف ہوتے ہیں! وجہ کیا ہے؟ یادرہے کہ حزب اللہ کے شیعہ نوجوانوں نے 2006 میں اسرائیل کو اس کی تاریخ میں پہلی بار شکست کا مزہ چکھایا ہے.}

س: اس وقت یہ سنی ممالک میں شیعہ نفوذ کی باتیں کیوں ہونے لگیں؟

ج: میں دشمنان اسلام کے خلاف مسلمانوں کی اتحاد کا حامی ہوں اور اختلافی مسائل کو ماہرین کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہوں مگر میں وحدت کے عنوان سے منعقدہ کانفرنسوں میں دو چیزوں پر تاکید کرتا آیا ہوں : سب سے اہم بات یہ ہے کہ سبّ صحابہ کا خاتمہ ہونا چاہئے یہ ہمارے درمیان سرخ لکیر ہے. کیونکہ قرآن کی آیات میں صحابہ کی تعریف ہوئی ہے اور ان کے بڑے بڑے کارنامے تاریخ میں ثبت ہیں. اصولی طور پر دشنام طرازی مسلمانوں کی خصوصیات میں شمار نہیں ہوتی اور روایات میں ہے کہ مسلمان سبّ اور لعن نہیں کرتا. دوسرا مسئلہ جس پر تقریب کے اجلاسوں میں تاکید کرتا آیا ہوں، یہ ہے کہ ایک مذہب سے تعلق رکھنے والے ملک میں دوسرے مذہب کی تبلیغ نہیں ہونی چاہئے کیونکہ ایسی صورت میں ہم اپنے مذہب کا دفاع کرنے پر مجبور ہونگے اور جس مذہب کی تبلیغ ہورہی ہے اس کے عیبوں کو بیان کریں گے اور اس کو باطل قرار دیں گے. میں نے ایرانیوں سے بھی کہا ہے کہ اگر آپ کسی سنی ملک میں دولاکھ افراد کو بھی شیعہ بنادیں تو اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا بلکہ اس ملک کے سنی آپ کے دشمن بن جائےں گے. شيعہ علماء نے بھی میری باتوں کی تائید کی ہے.

{شیخ کہتے ہیں کہ وہ دشمنان اسلام کے خلاف مسلمانوں کے اتحاد کے حامی ہیں. سوال یہ ہے کہ کیا ان کے نئے فتنے کے ذریعی انہوں نے وحدت مسلمین پر شدیدترین ضربیں نہیں لگائیں؟ کیا وہ وہابیت کے لشکر میں شامل نہیں ہوئے؟ اگر حضرت قرضاوی ماہرین کے ذریعے یہ مسائل حل کرنے کے خواہاں ہیں تو انہوں نے عوام کو کیوں ان مسائل میں شامل کیا؟ وہ کون تھا جس نے «مصری الیوم» کے ساتھ انٹرویو میں اس فتنے کا آغاز کیا؟

ان کا دعوی ہے کہ وحدت کانفرنسوں میں انہوں نے سبّ صحابہ کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے! سوال یہ ہے کہ کیا شیعہ علماء نے ان ہی کانفرنسوں میں ان کے اعتراضات کا جواب نہیں دیا؟ کیا انہوں نے کبھی شیعہ علماء کے جوابات کی طرف توجہ دی ہے؟ کیا واقعی شیعہ سبّ صحابہ کے معتقد ہیں؟ کیا اگر کوئی شیعہ فرد انفرادی طور پر ایسا اقدام کرے تو اس کو اس مکتب کے کروڑوں اعضاء کے ذمے ڈالنا جائز ہے؟ کیا انہیں معلوم نہیں ہے کہ اہل تشیع میں بھی بعض لوگ علماء کے پیروکار نہیں ہوتے اور وہ مرجعیت کے بھی خلاف ہوتے ہیں؟

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ کسی عقیدے والے ملک میں دوسرے عقیدے والے لوگوں کو بولنے کی اجازت نہیں ہے! یہ قاعدہ کس نے دیا ہے؟ کیا بیان کی آزادی قرضاوی کے اسلام میں منع ہے؟ اگر منع ہے تو وہ پھر وہابی ذرائع ابلاغ کو شیعہ علاقوں میں فتنہ پردازی سے منع کیوں نہیں کرتے؟ وہ بحرین جیسے شیعہ اکثریتی ممالک پر چھوٹی سی اقلیت کی حکمرانی پر کیوں خاموش ہوتے ہیں؟

اہم بات: قرضاوی صاحب دوسروں کو تبلیغ سے منع کرنے کی بجائے اہل سنت کے پیروکاروں کی منطق کو تقویت پہنچانے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ یا پھر لوگوں سے کیوں نہیں کہتے کہ جب کوئی شیعہ بولتا ہے تو وہ اپنے کانوں میں روئی ٹھونسیں؟

اظہار دعوت سے پہلی کئی لوگ مسلمان ہوئے تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ (ص) مسجدالحرام میں انفرادی تبلیغ کیا کرتے تھے اور لوگوں کے سوالوں کا جواب دیا کرتے تھے اور حتی مکہ کے مشرکین نے آپ (ص) کو بولنے سے منع نہیں کیا بلکہ لوگوں سے کہتے تھے کہ اپنے کانوں میں روئی ٹھونس دو!. وہ سنیوں کی سوچ پر قدغن کیوں نہیں لگاتے؟ وہ بیان کی آزادی سے اس زمانے میں کسی کو کیونکر منع کرسکتے ہیں جبکہ انٹرنیٹ اور سیٹلائٹ ٹی وی چینل لوگوں کے گھروں میں موجود ہیں اور ہر کوئی اپنی مرضی کا چینل دیکھتا ہے یا اپنے مطلب کے مضامیں ڈھوندتا ہے؟ کیا وہ کسی سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنے مکتب اور مذہب کی باتیں ٹی وی پر نہ سنائے یا انٹرنیٹ میں نشر نہ کرے؟

یہ منطق ہرگز سمجھ میں نہیں آرہی کہ اگر کوئی قوم تشیع کا خیر مقدم کرتی ہے اور وہاں کچھ لوگ شیعہ ہوجاتے ہیں تو وہاں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑیں گے؟ یہ جناب قرضاوی کی تشویش کا باعث ہے!}

کہتے ہیں کہ شیعہ تبلیغ کریں گے تو ہم تشیع کی برائی کریں گے! اگر قرضاوی صاحب ایسا کریں گے تو اس کے نتیجے میں سنی غضبناک ہوں گے اور لڑائیاں چھڑیں گی جبکہ قرضاوی صاحب دعوی کررہے ہیں کہ وہ وحدت کے حامی ہیں اور شیعہ سنی فسادات سے فکرمند ہیں! کیا تضادات ہیں اس مفتی اعظم کے اقوال زرین میں! وہ اہل تشیع کو سبّ و شتم کا الزام دیتے ہیں اور ساتھ ہے اہل تشیع کو سبّ و شتم کی بھی دھمکی دیتے ہیں!}

س: خلیج فارس کے ممالک میں تشیع کے فروغ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

ج: ہاں وہاں بھی یہی صورت حال ہے. شام میں بھی یہی حال ہے اگرچہ شام عراق اور لبنان میں اہل تشیع پہلے سے موجود ہیں اور ان ممالک کا معاملہ ان ممالک سے مختلف ہے جہاں حتی ایک شیعہ بھی نہیں تھا.

{مصر ایک شیعہ ملک تھا جو صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں اہل تشیع کے قتل عام کے بعد سنی ملک میں بدل گیا اور حضرت قرضاوی بھی کہتے رہے ہیں کہ ایوبی کے بعد یہاں ایک شیعہ بھی نہ تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے پہلے یہاں شیعہ تھے... سوال یہ ہے کہ کیا ایوبی کے ہاتھوں قتل عام کے ذریعے شیعہ ملک میں تشیع کا قلع قمع ہوجانا اور تسنن کو بزور شمشیر نافذ کرنا درست تھا؟ کیا شیعہ بھی وہاں شمشیر اٹھا کر تشیع کی ترویج کررہے ہیں}

کہتے ہیں: اسے لئے میں صرف ان ممالک کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں جہاں ایک شیعہ فرد بھی نہ تھا اور اسی بات نے مجھے آزردہ کردیا ہے!.

{شیعہ افراد کی موجودگی نے حضرت کو آزردہ کیا ہے سوال یہ ہے کہ مصر میں یہودیوں اور عیسائیوں کی موجودگی اور ریشہ دوانیوں اور فحشاء و اخلاقی گراوٹوں اور صہیونیوں کے ساتھ اردن، مصر، قطر اور بعض دیگر ممالک کے دوستانہ تعلقات سے بھی وہ آزردہ ہوتے ہیں؟}

کہتے ہیں: میں اسی وقت سے اس خطرے کے بارے میں متنبہ کررہا ہوں ورنہ اگر ہم خاموش رہیں اور تشیع کی جڑیں سنی ممالک میں پھیل جائیں تو کچھ عرصہ بعد شیعہ اقلیتیں ان ممالک میں اپنے حقوق کا مطالبہ کریں گی اور اس طرح فرقہ وارانہ فسادات کا خطرہ پیدا ہوگا.

{میرا خیال ہے کہ اگر قرضاوی صاحب تشیع کے فروغ سے فکرمند ہونا چھوڑدیں اور عمر کے ان آخری برسوں میں اپنی نئی نویلی نوجوان بیگم کے ساتھ بیٹھ کر ذکر الہی میں مصروف ہوجائیں یا پھر ہنی مون کے لئے چلے جائیں کیونکہ اب تو وہ نئے کارنامے اور شیعہ سنی فتنہ برپا کرنے کے سلسلے میں اتنی وسیع و عریض خدمت کے بعد کہیں بھی جاسکتے ہیں اور وہ ہنی مون کے لئے چلے جائیں گے تو کوئی جھگڑا بھی نہ ہوگا. وہ صرف فتنہ پردازی چھوڑیں تو یقینا کوئی فرقہ وارانہ فساد نہ ہوگا اور اگر شیعہ مسلمانوں کی اقلیتیں وجود میں آئیں تو ان ملکوں میں غیرمسلم اقلیتوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں اور اگر شیعہ اقلیتوں کے حقوق بھی دے دیئے جائیں تو ان ممالک کو نقصان نہیں پہنچے گا اور یہ ممالک شیعہ ملک نہیں بنیں گے؛ بس حضرت فکرمند نہ ہوں}

میں اس لئے متنبہ کررہا ہوں کہ مستقبل میں کہیں اہل سنت کے درمیان فتنہ نمودار نہ ہوجائے اور امت کے فرزندوں کے درمیان جنگ و جدل کا سد باب کررہا ہوں!.

{حقیقت یہ ہے کہ ہر آدمی تنہائی میں بھی سوچتا اور سمجھتا ہے اور یہ درست نہیں ہے کہ کوئی ایک فرد واحد دوسروں کے لئے سوچتا رہے اور دوسروں کو سوچنے سے منع کرتا رہے. اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ لوگوں کو تحقیق اور سوچنے سمجھنے سے منع کیا جاسکتا تھا. اہل سنت کے پیروکاروں کو بھی خدا نے عقل و منطق دی ہے اور مولانا صاحب کو ان کی عقل اور سوچ پر شک کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور تمام انسانوں کو سوچنے کا حق ہے اور اپنے بارے میں فیصلے کا بھی حق ہے جیسا کہ کسی کو بھی کسی کی سوچ پر قدغن لگانے کا حق نہیں ہے اور وہ جو اتنا عرصہ تشیع کو اسلام کا جزء قرار دیتے رہے ہیں تشیع کے ساتھ اہل تسنن کے فتنے کی طرف بھی توجہ دیں جن کے درمیان وہ فتنہ برپا کررہے ہیں۔}

اہل تشیع کے علماء میری باتوں کو سمجھتے ہیں مگر ایران کی ایک خبر ایجنسی نے مجھ پر شدید تنقید کی ہے اور اور یہ خبر ایجنسی تشیع کے فروغ کو اہل بیت (ع) کا معجزہ قرار دیتا ہے.

مہرخبر ایجنسی نے لکھا ہے کہ ہم سنی علماء شیعہ مذہب کی فتح کا اعتراف کیوں نہیں کرتے اور اہل بیت کے معجزات کا اقرار کیوں نہیں کرتے؟

{کیا قرضاوی صاحب پر تنقید حرام ہے؟ کیا انہیں شک ہے کہ یہ اہل بیت (ع) کا معجزہ ہے کہ تاریخ کی طول و عرض میں شمشیر اور پروپیگنڈے کے ہتھیاروں کو بروئے کار لانے والے ہزاروں ایوبیوں اور قرضاویوں نے تشیع کے خاتمے کی کوششیں کیں مگر یہ مکتب نہ صرف باقی رہا بلکہ پھلتا پھولتا رہا اور آج وہی ایوبی اور وہی قرضاوی اس مکتب کے فروغ سے تشویش میں مبتلا ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اہل تشیع کسی ملک کے اندر جاکر کوئی تبلیغ نہیں کررہے ہیں بلکہ اپنے عمل سے اپنی حقانیت ثابت کررہے ہیں اور ذرائع ابلاغ اس حقانیت کے بعض اجزاء سے دنیا والوں کو مطلع کرتے ہیں باقی باتیں مسلمان خود ڈھوند لیتے ہیں اور حقانیت کاملہ سے باخبر ہوجاتے ہیں اور اگر شیعہ بھی وہابیت کی طرح پیسے، طاقت، قتل و غارت، تکفیری فتووں اور دوسرے ممالک میں اپنے نظریات کی ترویج کی کوشش کرتے تو شاید قرضاوی صاحب بھی وہابی مولویوں کی طرح تشیع کے خلاف اعلان جہاد ہی کرتے۔}

لبنان کے معتدل شیعہ عالم دین علامہ فضل اللہ نے بھی عجیب موقف اپنایا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ ہم سنی علماء عیسائیت کی ترویج کے سلسلے میں کیوں اتنے فکرمند نہیں ہیں جتنے کہ ہم تشیع کے فروغ سے فکرمندی کا اظہار کررہے ہیں؟ حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ میں نے 1978 میں کلوراڈو میں عیسائی مبلغین کی کانفرنس کے دوران مسلم ممالک میں عیسائیت کی ترویج کی شدید مخالفت کی تھی.

{پہلی بات تو یہ ہے کہ تقریباً تمام شیعہ علماء معتدل ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ قرضاوی صاحب جو موہوم پروپیگنڈوں سے اس حد تک متاثر ہوتے ہیں ایک شیعہ عالم دین سے یہ توقع کیوں کرتے ہیں کہ اس کے مکتب کو تو وہ بدعت گذار کہتے پھریں مگر وہ اعتراض تک بھی نہ کرے! اور تیسری بات یہ ہے کہ 1978 سے اب تیس سال کا عرصہ گذرچکا ہے اور علامہ فضل اللہ نے قرضاوی صاحب کو موجودہ زمانے کا حوالہ دیا ہے جب کہ اب تک مختلف سنی اکثریتی ممالک میں لاکھوں افراد کو عیسائی بنایا گیا ہے اور بنایا جارہا ہے اور قرضاوی صاحب نے 1978 کی کلورادو کانفرنس کا حوالہ دے کر اعتراف کیا ہے کہ اس زمانے میں انہیں مسیحیت کی پرچار سے کوئی تشویش لاحق نہیں ہے. شاید ان کا بیٹا جب سے شیعہ ہوا ہے اس کے بعد انہیں تشیع سے اتنی تشویش لاحق ہوئی ہے کہ اب انہیں کسی اور بات سے تشویش کی فرصت ہی نہیں ہے اور 30 سال بعد اب وہ تشیع اور تسنن کے درمیان فتنے کے علمبردار ہیں.}

س: کیا نئے شیعہ ہونے والے افراد کے اعداد و شمار کے بارے میں آپ کچھ بتا سکتے ہیں؟

ج: اعداد و شمار فراہم کرنا مشکل نہیں ہے اور ہم نے اس سسلسلے میں تحقیق کا فیصلہ کیا ہے. البتہ واضح ہے کہ سنی ممالک میں تشیع کی تبلیغ خفیہ انداز سے ہوتی ہے اور شیعہ ہونے والے افراد بھی اپنا عقیدہ چھپا کر رکھتے ہیں تاکہ ارد گرد سنیوں کے جذبات مجروح نہ ہوں ورنہ اردگرد کی آبادی ان کے خلاف اٹھ کھڑی ہوگی.

اہل تشیع کے ہاں ایک اصول تقیہ کا اصول ہے اور وہ جو اعداد و شمار بتاتے ہیں وہ بھی درست نہیں ہیں کیونکہ وہ اپنی تعداد زیادہ بتاتے ہیں!!.

یہ لوگ جامعات اور یونیورسٹی کے طلباء کے قریب جاتے ہیں جو فکری اور عقیدتی استحکام سے بہرہ مند نہیں ہوتے!!

البتہ ان کے پاس پیسہ بھی بہت ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ لوگوں کی غربت سے استفادہ کریں!

{قرضاوی صاحب بڑے عالم و فاضل انسان ہیں؛ جبکہ یہ عرض حال تحریر کرنے والے کے بساط میں نہ تو علم ہے اور نہ ہی فضل؛ مگر ان کی باتوں میں تضاد قابل ہضم نہیں ہے. انہوں نے فرمایا ہے کہ «اعداد و شمار موجود نہیں ہے اور یہ کہ شیعہ ہونے والے افراد اپنا عقیدہ چھپاتے ہیں اور وہ جو اعداد و شمار بتاتے ہیں وہ بھی درست نہیں ہیں کیونکہ وہ اپنی تعداد زیادہ بتاتے ہیں » سوال یہ ہے کہ اگر ان کے اعداد و شمار موجود نہیں ہیں اور وہ اپنے عقائد بھی چھپا رہے ہیں تو پھر ان کی تشویش کا سبب کون سی بات ہے؟ اور انہیں کہاں سے معلوم ہوا ہے کہ سنی ممالک کو شیعہ کیا جارہا ہے؟ انہیں کیسے معلوم ہوا کہ کروڑوں خرچ ہورہے ہیں تا کہ سنیوں کو شیعہ بنایا جائے؟ عجیب سی بات ہے اور اگر شیعہ اپنی آبادی جھوٹ موٹ کی زیادہ بتاتے ہیں تو پھر کون سی چیز ان کے لئے باعث تشویش ہے؟ کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ شیعہ اپنی تعداد زیادہ بتاکر راضی ہوتے رہیں اور حضرت قرضاوی بھی ان کے جھوٹ کا سہارا لے کر کسی بھی قسم کی کسی تحریک کی موجودگی سے مطمئن ہوجائیں؟ ہنٹگنٹن نے شیعہ ہلال کی بات کی تھی اور قرضاوی اور وہابی اس کا یقین کربیٹھے جبکہ یہ صرف عظیم تر مشرق وسطی کی تشکیل کے حوالے سے امریکی سازش کا حصہ ہے اور شیعوں کا علاقے پر تسلط اس وقت ایک استعماری پروپیگنڈا ہے. انہوں نے تقیہ کے اصول کی طرف اشارہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ «وہ اپنی تعداد زیادہ بتاتے ہیں اور یہ تعداد بھی درست نہیں ہے!! اگر وہ تقیہ کررہے ہیں تو اپنی تعداد کیوں زیادہ بتاتے ہیں اور تقیہ کرنے والا یہ اعلان کیوں کررہا ہے کہ شیعہ افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے!!! عجباً یا شیخ }

س: کیا یہ درست ہے کہ مختلف ممالک میں ایرانی خیراتی ادارے تشیع کی ترویج کےلئے استعمال ہورہے ہیں؟

ج: مجھے یقین ہے اور میں مطمئن ہوں کہ تشیع کی ترویج کےلئے بجٹ مختص کیا گیا ہے.

امام خمینی کے انقلاب کے بعد ایران کی حکومت نے اپنے آپ کو با رسالت ریاست قرار دیا اور ان کی رسالت اور مشن یہ ہے کہ مذہب شیعہ اثناعشریہ کی ترویج کی جائے. دینی مدارس میں بھی شیعہ مبلغین کی تربیت کی جارہی ہے تا کہ یہ مبلغین دین و مذہب کی ترویج کریں. یہ صحیح بات ہے اور اس کےلئے دلیل و ثبوت لانے کی ضرورت نہیں ہے. البتہ ثبوت یہ ہے کہ مکمل طور پر سنی ممالک میں اس وقت شیعہ بھی نظر آنے لگے ہیں.

{امام خمینی (رہ) کے نظریات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں قارئین خود غیرجانبدار اور فرقہ واریت پر یقین نہ رکھنے والے ذرائع سے ان کے افکار کے بارے میں معلوم کرسکتے ہیں اور ان کی عالمی سطح پر عظیم کامیابیاں ان کے افکار کے آئینہ دار ہیں.

یہ جو انہوں نے فرمایا ہے کہ تشیع کی ترویج کے لئے بجٹ کے بارے میں انہیں یقین ہے تو یہ بھی انہوں نے درحقیقت تاریکی میں تیر پھینکا ہے اور کوئی تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے کہ کتنا بجٹ، کب، کیسے اور کہاں منظور ہوا ہے؟ یہ جو انہوں نے فرمایا ہے کہ مبلغین تیار کئے جارہے ہیں تو کسی مکتب کے دینی مدارس میں مبلغین ہی کو تیار کیا جاتا ہے اور وہ مبلغین اپنے ہی مکتب کی ترویج کریں گے. ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا سنی مدارس میں شیعہ مکتب کی ترویج کی تربیت دی جاتی ہے؟ کیا شیعوں کو اپنے دینی مدارس اور حوزات علمیہ بند کرنا چاہئے تا کہ قرضاوی صاحب راضی ہوجائیں؟ اور کوئی قرضاوی صاحب سے کیوں نہیں پوچھتا کہ عیسائی خیراتی ادارے عرب ممالک اور سنی ممالک میں کیا کررہے ہیں اور ان اداروں کی موجودگی سے قرضاوی صاحب کو تشویش کیوں لاحق نہیں ہوتی؟}

س: آپ نے کہا کہ ایران کے پیسوں نے افراد کے اعتقادات کو بدل دیا ہے؟

ج: بے شک ان رقومات کا اپنا اثر ہے لیکن میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ جو بھی ایران کی حمایت کرتا ہے اس نے رقم لی ہے میں ان سب پر الزام نہیں لگانا چاہتا. البتہ بعض لوگوں نے یہ رقوم وصول کی ہیں اور اب بھی وصول کررہے ہیں اور مسلسل ایران کے دورے کررہے ہیں.

{پیسے استعمال کرنے کا جو شوشا انہوں نے چھوڑا تھا اس کا ان کے پاس کوئی ثبوت نہ تھا ورنہ وہ ضرور یہ ثبوت میدیا کی سامنے لاتے اور پھر انہوں نے کئی بار خود بھی ایران کی حمایت کی ہے اور ایران کو انہوں نے دارالاسلام کہا ہے او ریہ جو کہہ رہے ہیں کہ ایران کے سارے حامی ایران سے پیسے نہیں لیتے یہ درحقیقت انہوں نے اپنے آپ کو پیسے لینے کے الزام سے چھڑانے کی کوشش کی ہے مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے پیسے لئے ہیں یا لے رہے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ انہوں نے خود کوئی رقم وصول کی ہے اور اب اس کا اعلان کرنے سے کترا رہے ہیں؟! یا پھر یہ کہ دوسروں کو رقم ملی ہے اور انہیں نہیں ملی ہے جس کی وجہ سے وہ ان تشیع اور ایران پر غصہ اتار رہے ہیں؟ اور سوال یہ ہے کہ عالمی مسلم علماء ایسوسی ایشن کے جن اہم عہدیداروں نے ان پر اعتراضات کئے ہیں اور بڑے سنی علماء نے ان کے بارے میں جو اظہار خیال کیا ہے کیا یہ بھی ایرانی تومان کی برکت ہے؟ کیا ان کے قریبی ساتھیوں کو بھی مال ملا ہے جو ان کے موقف کی مخالفت کررہے ہیں؟}

س: آپ کا ایک مشہور جملہ یہ ہے کہ اہل سنت واحد فلاح یافتہ فرقہ ہے اور باقی فرقے دوزخ میں جائیں گے؛ کیا امامیہ اور زیدیہ دوزخی ہیں؟

ج: یہ درحقیقت ایک حدیث ہے؛ ہر فرقے کا دعوی ہے کہ وہ برحق ہے اور باقی فرقے باطل ہیں. یہ ایک طبیعی امر ہے کہ ہم اہل سنت اپنے آپ کو برحق سمجھیں اور میں اس سلسلے میں کوئی مشکل محسوس نہیں کرتا. کیوں کہ اس بات سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ امت میں اختلاف ہونا چاہئے اور سارے دوزخی ہیں البتہ ہمارے سوا؛(!) ہم اہل سنت 19 فرقوں پر مشتمل مالكى، شافعى، حنفى، حنبلى اور دیگر سنی مکاتب کے پیروکار؛ ہم انیس فرقے «ایک امت» ہیں اور ایک ملت ہیں.

{یہ حدیث بالکل درست ہے مگر اس میں یہ کہاں لکھا ہے کہ اہل سنت و الجماعت وہی لوگ ہیں؟ اور پھر اہل سنت و الجماعت میں دسیوں فرقے ہیں یا بقول قرضاوی کے 19 فرقے ہیں جنہیں قرضاوی صاحب امت واحدہ قرار دے رہے ہیں یعنی باقی 54 فرقے کہاں جائیں گے؟ کیا وہ امت کا حصہ نہیں ہیں؟ اور پھر ان کے بقول یہ 19 سنی فرقے - جن میں سے بہت سے ایک دوسرے کو خارج از اسلام قرار دیتے ہیں یا پھر ان پر بدعت کا الزام لگاتے ہیں اور ایک دوسرے کے قتل کو جائز سمجھتے ہیں اور ایک دوسرے کو اپنی مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے اور ان کے ساتھ رشتے نہیں کرتے اور ان کے درمیان فقہی اختلافات ہیں اور یہ اختلافات نہایت سنجیدہ ہیں - ساری کیونکر ایک فرقہ تصور کئے جاسکتے ہیں؟ عجباً یا شیخ}

س: میں کچھ عرصہ قبل برطانیہ کے یہودی خاخاموں سے ملا جو دوحہ آئے تھے؛ آپ کے دوست «کمال ہلباوی» نے کہا کہ «اسلام اور یہودیت کے درمیان تعاون کی بہت بڑی اہمیت ہے اور ہم ان دو ادیان کے درمیان مشترکہ نکات پر تاکید کرتے ہیں اور ان تعلقات کے حوالے سے منصوبے بنانا چاہتے ہیں؛ کیا اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان مشترکہ نکات نہیں ہیں؟

ج: میں امتوں کے درمیان گفتکو پر یقین رکھتا ہوں؛ میں صہیونیوں کے سوا دیگر یہودیوں کے ساتھ گفتگو پر یقین رکھتا ہوں؛ ہم ہندؤوں اور بدھ مت کے پیروکاروں کے ساتھ بھی گفتگو کرسکتے ہیں مگر شیعوں کے ساتھ گفتگو مشروط ہونی چاہئے اور شرط یہ ہے کہ وہ ہمارے ممالک پر اعتقادی یلغار سے پرہیز کریں. ہم اہل تشیع کے ساتہ اس صورت میں گفتگو کرسکتے ہیں کہ وہ ہمارے ممالک میں سنی مذہب کی جڑیں سکھانے کی کوشش نہ کریں اور اگر وہ ایسا کریں گے تو میں ان کے ساتھ گفتگو کا مخالف ہوں.

{قرضاوی صاحب امتوں کے درمیان گفتگو پر تو یقین رکھتے ہیں اور حتی کہ ہندؤوں اور بدھ مت کے پیروکاروں تک کے ساتھ گفتگوں کرنے کے روادار ہیں اور ان کے ساتھ گفتگو کے لئے کوئی پیشگی شرط نہیں لگاتے مگر فرماتے ہیں کہ «ہم اہل تشیع کے ساتہ اس صورت میں گفتگو کرسکتے ہیں کہ وہ ہمارے ممالک میں سنی مذہب کی جڑیں سکھانے کی کوشش نہ کریں اور اگر وہ ایسا کریں گے تو میں ان کے ساتھ گفتگو کا مخالف ہوں». میں پھر بھی وہی کہوں گا جو کہتا آیا ہوں کہ وہ دنیا پر قدغن نہیں لگاسکتے اور پھر انہیں معلوم ہے کہ سنی ممالک میں کوئی بھی شیعہ مبلغ تبلیغ کے لئے نہ جاتا ہے اور نہ اس کو تبلیغ کی اجازت ملتی ہے یہ سب غلط پروپیگنڈا ہے مگر ہاں وہ کسی کو اپنے ملک اور اپنے گھر میں اپنا موقف بیان کرنے سے نہیں روک سکتے اور پھر گفتگو کا جتنا فائدہ شیعہ کو ملتا ہے سنی کو بھی ملتا ہے کیونکہ سنی بھی صہیونیت اور استعمار کے تسلط کے خواہاں نہیں ہیں اور ہندو اور بدھ مت والے بھی استعمار اور صہیونیت کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور وہ اہل کتاب بھی نہیں ہیں۔ وہ صرف شیعوں کی دشمن نہیں ہیں بلکہ سنی اکثریت میں ہیں تو ان سازشوں کا زیادہ نشانہ بھی سنی بنتے ہیں اور شیعہ سنی اتحاد سب کی ضرورت ہے اور اگر قرضاوی صاحب خواہ مخواہ شیعوں سے مذاکرات نہ کرکے ہندؤوں اور بدھ مت کے پیروکاروں کے ساتھ بات چیت کے لئے وقت نکالنا چاہتے ہیں تو چلے جائیں اور مسلمانوں کو اپنی مصلحت کے بارے میں خود سوچنے اور فیصلہ کرنے کے لئے چھوڑیں کیونکہ کوئی بھی اتنا سادہ نہیں ہے کہ ان کی باتوں میں آکر امت کے مفادات کو بھول جائے. عالمی مسلم علماء ایسوسی ایشن – جس کے وہ صدر ہیں – کے اہم عہدیداروں نے ان پر جو اعتراضات کئے ہیں اور بڑے سنی علماء نے ان کے بارے میں جو اظہار خیال کیا ہے اس سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں امت کے مفادات پیارے ہیں نہ قرضاوی صاحب کی فتنہ پردازیاں!}

س: آپ کے خیال میں تشیع کے علاوہ ایرانیوں کا اور کیا مقصد ہے؟

ج: اگر ايرانى عقلمند ہیں اور عالم اسلام کے دل جیتنا چاہتے ہیں تو انہیں جان لینا چاہئے کہ «اہل سنت کے 19 فرقے امت واحدہ ہیں» اور انہیں اپنے اعمال ترک کرنے پڑیں گے.

انہیں یہ بات جان لینی چاہئے کہ وہ امت اسلامی کے اندر بنیادی تبدیلی نہیں لاسکیں گے اور سنی امت کو شیعہ امت میں تبدیل نہیں کرسکتے. بلکہ اس سے نفرت میں اضافہ ہوگا اور اگر وہ اپنے ان اعمال کو جاری رکھنے پر اصرار کریں تو میں اپنے موقف سے پیچھے ہٹوں گا اور ان کی مخالفت کروں گا.

{ایرانی امت میں جو بنیادی تبدیلی لانا چاہتے تھے وہ لاچکے ہیں؛ اسلامی بیداری کی عالمی لہریں اسی تبدیلی کی علامت ہیں. ایرانیوں نے کبھی بھی سنیوں کو شیعہ بنانے کی کوشش نہیں کی بلکہ انہیں اپنے حقوق یاد دلائے اور انہیں اپنے حقوق کی حفاظت کے گر سکھائے اور انہیں اتحاد امت کی دعوت دی اور ان سے نفرت صرف امریکہ اور اسرائیل کو ہے اور اسرائیل اور امریکہ کے دوست بھی لامحالہ ان سے نفرت کرتے ہیں. ایرانی جو بنیادی تبدیلی لانا چاہتے تھے اس میں وہ کامیاب ہوگئی ہیں. فلسطین کو عرب قومیتی مسئلے سے اسلامی مسئلے میں ایرانیوں نے تبدیل کیا؛ اسرائیل کو لبنانیوں نے جو سبق سکھایا یہ ایرانیوں کا سکھایا ہوا سبق تھا اور امریکہ اور اسرائیل کو اسلامی دنیا میں جن مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے یہ سب ایرانیوں کے سبق کا نتیجہ ہے اور اگر قرضاوی صاحب کو عالم عرب اور عالم اسلام کا رہبر بننے کی غلط فہمی ہے تو وہ یہ غلط فہمی ذہن سے نکال ہی دیں تو بہتر ہے اور اب اتنے ساری علماء اور گروہوں اور سیاسی شخصیات نے ان کی مذمت کی ہے کہ اس عمر میں اتنا بڑا صدمہ برداشت کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہے اور اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو یقیناً امیر قطر کی مسجد کی امامت سے مستعفی ہوکر پوتوں اور نواسوں کے ساتھ کھیلنے کو ترجیح دیتا گو کہ وہ اپنے ایک بیٹے کے بچوں سے کھیلنا بھی ہرگز پسند نہیں کریں گے جو کہا جارہا ہے کہ شیعہ ہوگیا ہے!}

س: کہا جاتا ہے کہ اگر امریکہ ایران پر حملہ کرے تو ایران نئے شیعہ ہونے والے افراد کو ان کی حکومتوں کے خلاف اکسائے گا؛ آپ کا کیا خیال ہے؟

ج: فطری امر ہے کہ جب کوئی شخص مذہب تبدیل کرتا ہے تو وہ اگر مصری بھی ہو تو ایران رجحانات کا حامل ہوگا؛ لبنان کے شیعہ اپنے دیگر ہموطنوں کی نسبت ایران کے ساتھ زیادہ قربت محسوس کرتے ہیں؛ ایران ایک معمولی ملک نہیں ہے بلکہ اس کے نہایت اونچے اہداف و مقاصد ہیں اور اس کے مقاصد فارسی سلطنت اور شیعی تعصب کا آمیزہ ہیں!!

{خدا کاشکر ہے کہ قرضاوی صاحب نے آخر کار اپنی حقیقت کا اعلان کر ہی لیا کہ وہ اسرائیل کے حامی اور امریکہ سے وابستہ شخصی اور بادشاہی نظاموں کے وارث حکمرانوں کے اتنی ہمدرد ہیں. انہوں نے روزنامے کے نامہ نگار کے شرارت آمیز سوال کے جواب میں فرمایا ہے کہ عرب ممالک کے شیعہ ایران پر امریکی حملے کی صورت میں ایران کی ہدایت پر اپنے ملک کے خلاف اٹھیں گے. انہوں نے تمام حدوں کو پہلانگ کر پہلی معاصر اسلامی حکومت پر فارسی سلطنت کے احیاء تک کا الزام لگایا ہے.

س: بعض لوگوں کا خیال ہے کہ شیخ قرضاوی کے فتوے جدل انگیز ہیں؛ آپ کا کیا خیال ہے؟

ج: میں ان باتوں کو آگے نہیں بڑھانا چاہتا! میں ان قال و مقال سے راضی نہیں ہوں؟ میرا کام تربیت اور افتاء ہے! میں دین میں منطق کی پیروی کرتا ہوں اور دین عقل کے خلاف نہیں ہوسکتا!!.

{قرضاوی صاحب خود جدل اور قال و مقال کی بنیاد بنے ہیں اور وہ اگر راضی نہیں ہیں تو پھر انہوں نے بار بار اپنے موقف کو دہرایا کیوں؟ اور وہ متعصب عرب اور وہابی میڈیا کے ہاتھوں میں کھیلنے پر راضی کیوں ہوئے؟

ان صاحب کی اس آخری بات میں جو تضاد ہے وہ سب کے لئے قابل ادراک ہے اور وہ یہ ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ « میں دین میں منطق کی پیروی کرتا ہوں اور دین عقل کے خلاف نہیں ہوسکتا» اور میرا سوال یہ ہے کہ اگر وہ دین میں منطق کی پیروی کرتے ہیں تو پھر غیر منطقی اور ناقابل اثبات دعوے کیوں کرتے ہیں اور سامراجیوں کے پروپیگنڈوں کو کیوں آگے بڑہاتے ہیں؟ اور اگر دین عقل کے خلاف نہیں ہوسکتا تو پھر لوگوں کو عقل کی پیروی سے کیوں روکتے ہیں اور ان کے دین اور عقل پر شک کرکے اپنے آپ کو ہی کیوں اتھارٹی سمجھنے لگتے ہیں؟ کیا وہ پیغمبر ہیں معاذاللہ کہ لوگوں کو ان کی بات پر یقین کرنا لازمی ہو اور لوگ ان کی سوچ کو اپنے لئے حجت سمجھیں !؟}

                                                                                                   
+ تحریر شده  22 Apr 2009میں ٹایم 11 AM  قلم نگار سیفی  |